ضلع چکوال کے مسائل جوں کے توں ہیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ گھمبیر ہو چکے ہیں، ۔

چکوال(نامہ نگار)مسلم لیگ ن کے اس وقت 9پارلیمنٹرین ہونے کے باوجود ضلع چکوال کے مسائل جوں کے توں ہیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ گھمبیر ہو چکے ہیں، 2013ء کے الیکشن میں مسلم لیگ ن نے ضلع چکوال میں کلین سویپ کیا تمام نشستوں پر کامیابی حاصل کی اس کے بعد ایک ایم پی اے، ایم این اے اور ایک سینیٹر بھی ضلع چکوال سے بنایا گیا، یوں مسلم لیگ ن کو شاید ہی آئندہ اتنا بڑا مینڈیٹ مل سکے، 9پارلیمنٹرین ہونے کی وجہ سے عوام نے ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر رکھی تھیں، لیکن ان کی مجموعی کارکردگی دیکھی جائے تو انتہائی مایوس کن ہے، سوائے ملک تنویر اسلم جو کہ صوبائی وزیر بھی ہیں نے اپنے حلقہ پی پی 21میں اربوں کے ترقیاتی کام کروائے ہیں لیکن وہ بھی صوبائی وزیر ہونے کے باوجود اپنے حلقہ تک محدود ہیں، ان کا ضلع چکوال کی سیاست اور دیگر امور میں کوئی کردار نظر نہیں آتا، جبکہ باقی تمام ممبران یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، کسی نے بھی کوئی ایسا کام نہیں کیا یا پھر اپنے انتخابی وعدوں پر عملدرآمد کرانے کی کوشش نہیں کی، زیادہ تفصیل میں جانے کی کیا ضرورت مندرہ چکوال روڈ کی تعمیر پچھلے کئی سالوں سے مسلسل تاخیر کا شکار ہے دو وزرائے اعظم سنگ بنیاد رکھ چکے ہیں لیکن منصوبہ ہے وہ مکمل ہونے کو آ ہی نہیں رہا، عوام اب موجودہ پارلیمنٹرین سے مایوس ہو چکے ہیں، اور شاید آنے والے دنوں میں عوام کے تیور بدل جائیں اور وہ ان کو اگر کارکردگی کی بناء پر اپنا حق رائے دہی دینا چاہیں تو وہ مشکل میں پڑ جائیں گے۔image

It's only fair to share...Share on Facebook0Share on Google+0Tweet about this on TwitterShare on LinkedIn0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WordPress SEO fine-tune by Meta SEO Pack from Poradnik Webmastera